دِھیاں تو سانجھی ہوتی ہیں

دِھیاں تو سانجھی ہوتی ہیں

دِھیاں تو سانجھی ہوتی ہیں

 

چاچا رشید ایک بات تو بتا؟
تُو کیوں اتنی محنت کرتا رہتا ہے ہر وقت ؟ نہ دھوپ دیکھتا ہے نہ مینہ۔
بس کام میں لگا رہتا ہے ہر ویلے۔
میں اِس بار جب لاہور سے چھٹیوں پہ گاؤں آیا تو چاچا رشید سے پوچھے بِنا نہ رہ سکا۔

پہلے تُو یہ بتا کہ ہم سب جنّت میں کیسے جائیں گے۔؟
پھر میں تیرے سوال کا جواب دیتا ہوں۔
چاچا رشید نے اُلٹا مجھ سے سوال پوچھ لیا تھا۔

لو چاچا یہ بھی بھلا کوئی پوچھنے کی بات ہے۔
ہر کوئی اپنے اچھے اعمال کی وجہ سے ہی جنّت میں جائے گا۔
میں نے سینہ چوڑا کرتے ہوئے جواب دیا۔

وہ تو تُو ٹھیک کہہ رہا ہے پُتر مگر ایک اور چیز بھی ہے جس کے بغیر ہم میں سے کوئی ایک بھی جنّت میں نہیں جا سکتا۔
اور وہ اُس رب سوہنے کی رحمت ہے پُتر جو ہمیں جنّت میں لے کر جائے گی۔

اوہ چاچا _ ایک تو تم یہ بڑی گہری باتیں لے کر بیٹھ جاتے ہو۔
میں نے سَر کھجاتے ہوئے کہا۔

سُن تو سہی پُتر۔
اُس رب نے ہمیں جنّت میں اپنی رحمت کے بغیر نہیں بھیجنا اور پتہ ہے اُسی رب نے اِس دنیا میں بھی اپنی رحمت بھیج دی ہوئی ہے ”دھی رانی“ کی شکل میں۔

اب تو ماشاءاللہ وہ شادی کے قابل بھی ہو گئی ہے۔
تو بس اُسی دھی رانی کے جہیز کے لیے ہی محنت کرتا ہوں پُتر۔ میں چاہتا ہوں کہ رب کی رحمت کے ساتھ مجھ سے کوئی کوتاہی یا زیادتی نہ ہو جائے۔ اِسی لیے جی جان سے اُس کی خدمت کرتا ہوں۔ تا کہ وہ خُوش رہ سکے کیونکہ اگر وہ خُوش ہو گی تو رب سوہنا بھی مجھ گنہگار سے خُوش رہے گا ۔

ڈرتا بھی ہوں کہ حشر کے دن کہیں رب سوہنے نے پوچھ لیا کہ تم نے میری رحمت کا حق صحیح معنوں میں ادا نہیں کیا تو کیا منہ دِکھاؤں گا میں وہاں۔؟

اور فاطمہ دھی رانی تو مجھے اپنی جِند جان سے بھی زیادہ پیاری ہے پُتر۔
بات کرتے کرتے چاچا رشید کی آنکھوں میں نمی گھلنے لگ گئی تھی۔
چاچا اُداس سا ہو گیا تھا۔

اور پُتر ۔ دھِیوں کے نصیبوں سے بھی تو بڑا ڈر لگتا ہے ناں ۔ کہ اللہ نہ کرے کہیں ماڑے نکل آئیں تو ماپا تو جیتے جی ہی مر جاتا ہے ۔

چاچا ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے خاموش ہو گیا تھا۔
اور میں بے چین _

چاچا پھر دور کہیں خلاؤں میں گھورتے ہوئے بولا
کہ
جو پُتر ہوتے ہیں نہ وہ ہمیشہ ماں جائے ہی ہوا کرتے ہیں مگر دِھیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔
اِسی لیے تو میں یہ داہنی ٹانگ سے تھوڑا لنگڑا ہوں۔

چاچا رشید بولتا جا رہا تھا اور میں کسی اچھے سامعین کی طرح نظروں سے توجہ ظاہر کرتے ہوئے اُس کی باتیں سن رہا تھا۔
دلجوئی اور مکمل بات سننے کا اضطراب میرے چہرے پہ صاف دِکھائی دے رہا تھا۔


سردیوں کی رُت تھی۔جب شامیں جلدی ڈھل جایا کرتی تھیں اور دھند کے گہرے بادل شام ہوتے ساتھ ہی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا کرتے تھے۔

ایسے ہی ایک رات کچھ نامراد ڈاکوؤں نے پنڈ کے چوہدری صاحب کے گھر دھاوا بول دیا تھا۔
جانے کس نیت سے آئے تھے کم بخت جو چوہدری صاحب کی گُڑیا آمنہ کو اُٹھا کے لے جا رہے تھے۔

وہ آمنہ بھی تو دھی رانی تھی نہ پُتر اور دِھیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔
پھر دِھی چاہے شیدے کامے کی ہو یا پنڈ کے کسی چوہدری کی۔

تو پھر کیسےجانے دیتا میں آمنہ دھی رانی کو اُن ڈاکوؤں کے ساتھ؟
میں نے اللہ سوہنے کو یاد کیا اور پھر لمبی، مضبوط بانس کی لکڑی سے اُن پہ حملہ کر دیا ۔
وہ تو ہتھیاروں سے لیس تھے۔
اور جب میں ایک ڈاکو سے گتھم گتھا ہو رہا تھا تبھی دوسرے ڈاکو نے میری اِس داہنی ٹانگ کو پستول کی گولی سے چھلنی کردیا تھا۔
میری خوفناک چیخ نے سارے ماحول کو ڈراؤنا کر دیا تھا۔

میری چیخ سے ڈاکو بھی خوف زدہ اور گھبرا گےتھے اور جب انہوں نے گاؤں کے لوگوں کو ہماری طرف آتے دیکھا تو انہوں نے بھاگنے میں ہی عافیت جانی۔

بعد میں چوہدری صاحب نے میرے لاکھ انکار کے باوجود مجھے ڈھیر سارے انعام و کرام سے نوازا تھا اور میرا بہت اچھے سے علاج بھی کروایا تھا۔

چوہدری صاحب صدقے واری ہو رہے تھے اور میں شرمسار۔
بھلا اپنی دھی رانی کو بچا کر بھی کوئی احسان کرتا ہے کسی پر۔ وہ تو میرا فرض تھا پُتر جس کو نبھانے میں مجھے اُس رب سوہنے نے بھی سُرخرو کر دیا تھا۔

میں بُت بنا چاچا کی باتیں سن رہا تھا۔

چاچا نے اوپر ہاتھ اُٹھا کے رب کا شکر ادا کیا اور مجھے کہا کہ اچھا پُتر میں اب چلتا ہوں۔
دھی رانی راہ تَک رہی ہو گی میرا۔

میں چاچا رشید کو اپنی نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ رب کی رحمت کو کوئی کیسے چھین کرلے جا سکتا ہے۔
وہ تو صرف اُسی کو ملتی ہے جس کے لیے وہ ”کُن“ کہہ دیتا ہے۔

میرے قدم بھی اب اپنے گھر کی طرف چل پڑے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باہر کھلے میدان میں تنبو وغیرہ لگے ہوئے تھے۔سب بارات کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔
آج چاچا رشید کی دھی رانی ”فاطمہ“ کی شادی تھی۔
چاچا بھاگم بھاگ سب کام کررہا تھا۔ ہر کسی سے بس یہی کہہ رہا تھا کہ آج رَج کے روٹی کھا کے جانا سب اور میری دھی رانی کے چنگے نصیبوں کی دعا بھی ضرور کرنا ۔

تھوڑی دیر میں ہر طرف شور مچ گیا کہ بارات آ گئی۔ بارات آ گئی۔
بارات کا استقبال چاچا رشید کے ساتھ ساتھ پنڈ کے چوہدری صاحب نے بھی کیا تھا۔
چودھرائن اور اُن کا بیٹا بھی موجود تھے وہاں۔

نکاح کے لیے مولوی صاحب بھی آ گئے تھے اور انہوں نے دلہے کے پاس بیٹھ کے باقاعدہ نکاح کی رِسم بھی شروع کر دی تھی۔

رسم شروع ہی ہوئی تھی کہ اونچی اونچی آوازیں آنے لگ گئیں اور پھر بات تندو تیز لہجوں سے ہوتی ہوئی تلخ کلامی تک پہنچ گئی تھی۔
پتہ چلا کہ دلہے والے اپنی کچھ ناجائز شرطیں رکھنے پہ با ضد تھے۔
چاچا رشید پہ تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ وہ دلہے کے آگے ہاتھ جوڑ رہا تھا اور گِڑ گِڑا کے منتیں کر رہا تھا کہ یہ ظلم نہ ڈھاؤ مجھ غریب پہ۔
میں تو مر جاؤں گا۔
میں نے اپنی ساری عمر لگا دی ہے اور جتنا مجھ سے ہو سکا اپنی بیٹی کو دے رہا ہوں۔ یوں رُسوا نہ کرو میری بیٹی کو۔

مگر دلہے والے تو جیسے قسم کھا کر آئے تھے کہ شرطیں منوا کر ہی دلہن کو گھر لے کے جائیں گے۔

چاچا جیسے پاگل ہونے والا تھا۔
ہر طرف چہ مگوئیاں سی ہونی شروع ہو گئیں تھیں۔

چاچا رشید نے پتہ نہیں کیا سوچا اور وہ دلہے کے پاؤں پڑنے ہی والا تھا کہ پنڈ کے چوہدری صاحب نے اُنہیں فوراً پکڑ لیا اور ایک طرف چپ کر کے کھڑے رہنے کا حکم دے دیا۔

پھر چوہدری صاحب دلہے کے والد سے مخاطب ہوئے اور سفاک لہجے میں بولے کہ اگر ہماری بیٹی کو عزت سے اور بِنا کسی شرط کے بیاہ کر لے کے جانا ہے تو سو بسم اللہ ورنہ واپسی کا راستہ تم لوگوں کو بھی پتہ ہے۔

دلہے والے منہ بسورتے اپنی پوری بارات سمیت واپس لوٹ گے تھے۔

پھر چوہدری صاحب نے اپنے بیٹے کو دلہے کی جگہ پہ بٹھایا اور مولوی صاحب کو نکاح کی رسم پوری کرنے کا کہا۔

چاچا رشید تو جیسے ہکا بکا ۔۔۔
آنکھوں میں آنسو لیے اُدھر ہی سجدہ ریز ہو گیاتھا۔
پھر چوہدری صاحب کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے بولا کہ میں کیسے آپ کا اتنا بڑا احسان اُتار پاؤں گا؟
آپ نے مجھے خرید لیا ہے چوہدری صاحب۔ میری عزت رکھ لی ہے ۔ میرے دامن کو عمر بھر کی رسوائی سے بچا لیا ہے۔

چوہدری صاحب نے چاچا رشید کو اپنے قدموں سے اُٹھا کے کھڑا کیا اور کہا کہ جن سے رشتے ہو جاتے ہیں ناں شیدے وہ لوگ گلے ملتے ہیں، پاؤں نہیں پڑتے۔
آ گلے لگ جا میرے اب ۔

اور چاچا رشید اپنے ہنجو پونچھتے ہوئے چوہدری صاحب کے گلے لگ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دِھیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔
پھر دِھی چاہے شیدے کامے کی ہو یا پنڈ کے کسی چوہدری کی۔

میں کتنا خُوش قسمت ہوں جو اُس کی رحمت فاطمہ دھی رانی کی صورت میں میرے پورے گھر میں گھومتی پھرتی ہے۔
اُس کی ہنسی اور شرارتوں سے پورا گھر جنّت لگتا ہے۔

One thought on “دِھیاں تو سانجھی ہوتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *